ترونت پورم،2/جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) متنازعہ شہریت ترمیم قانون (سی اے اے) کے معاملہ پر کیرلا حکومت اور مرکز کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے - متنازعہ شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے)کے خلاف قرارداد منظور کرنے کے ایک دن بعد بی جے پی کی جانب سے تنقید پر وزیراعلیٰ وجین نے بدھ کو کہا ہے کہ ریاستی اسمبلیوں کے اپنے استحقاق ہوتے ہیں - دوسری طرف مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے اعادہ کیا کہ پارلیمنٹ میں منظور قوانین کو لاگو کرنا ریاستوں کی آئینی ذمہ داری ہے-منگل کو کیرلا اسمبلی میں سی اے اے کیخلاف قرارداد منظور ہونے کے بعد روی شنکر پرساد نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ وجین کو’بہتر قانونی‘ مشاورت لینی چاہئے- پرساد نے یہ بھی کہا تھا کہ شہریت سے منسلک مسائل پر قانون بنانے کی طاقت صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے،کیرلا یا کسی بھی ریاستی اسمبلی کے پاس نہیں - بدھ کو بھی روی شنکر پرساد نے کہا کہ یہ ریاستی حکومتوں کا آئینی فرض ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور قوانین کا اطلاق کریں - انہیں اس طرح کے فیصلہ لینے سے قبل مناسب قانونی رائے لینی چاہئے-اس کے بعد منگل کو ہی بی جے پی کے راجیہ سبھا ممبر نرسمہا راؤ نے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ پارلیمنٹ کے استحقاق کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ کیرلا کے وزیر اعلیٰ کے خلاف توہین کی کارروائی شروع کی جائے-جب اس موضوع پر کیرالہ کے وزیراعلی وجین سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ریاستی اسمبلیوں کے اپنے حقوق ہوتے ہیں، ان کے خلاف ایسی کارروائی تو کہیں نہیں سنی گئی، لیکن موجودہ وقت میں جب ملک میں غیر معمولی چیزیں ہو رہی ہیں تو کسی بھی چیز کو مسترد نہیں کیا جا سکتا-سی اے اے پر کیرلا کے علاوہ مغربی بنگال،پنجاب، مدھیہ پردیش اورچھتیس گڑھ میں اعلانیہ کہا ہے کہ ہم متنازع اور جمہوری مخالف قانون کو کسی بھی صورت میں اپنی ریاست میں نافذ نہیں کریں گے- مرکز کی جہاں اپنی ذمہ داریاں ہیں وہیں ریاستی اسمبلیوں کی بھی شہریوں کے تعلق سے اپنی ذمہ داریاں ہیں - مرکز اگر اس پر دھیان نہیں دے گا تو مجبوراً ریاست کو قدم اٹھانا ہی پڑے گا-